قوم عاد

erstellt am: 01.02.2017 | von: admin | Kategorie(n): ؑ قصص الانبیاء(senior), تازہ ترین (senior)

اس تحریر میں دیئے گئے حوالہ جات والدین کے لئے ہیں .اسلامی معلومات کے مقابلے کے لئے بچوں کا اس معلومات کو جاننا ضروری نہیں ہے . کسی بھی قسم کے سوالات یا تحفظات کے لئے آپ نیچے کمنٹس میں یا بذریعہ ای میل ic@pak-deutschkulturverein.de ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں .

کہانی:
ﷲتعالیٰ قرانِ پاک میں فرماتا ہے کہ قومِ عاد جیسی کوئی بھی قوم نہ پہلے کبھی تھی اور نہ ہی کبھی اُن کے بعد ﷲتعالیٰ نے تخلیق فرمائی۔ﷲ تعالیٰ نے قومِ عاد کو جسمانی اعتبار سے بہت طاقتور اور لمبے قد کا بنایا تھا اور اُن کی عمر یں بھی کافی لمبی تھیں، اور مالی اعتبار سے بھی قومِ عاد بہت امیر تھی۔ ﷲ تعالیٰ نے اُن کو سرسبز فصلوں، باغات اور نہروں سے مالامال کیا تھا۔ مگر قومِ عاد نے دنیا کو ہی سب سمجھ لیا اور دین کا علم حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان اور اُس کی سازشوں کو بھول گئے اور شیطان نے اُن کو آسانی سے گمراہ کردیا اور قومِ عاد ایک ﷲ کی عبادت چھوڑ کر کئی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور اِردگِرد کے علاقوں میں فساد پھیلانے لگے۔

نہایت رحمان اور رحیم ﷲتعالیٰ نے قومِ عاد کے حال پر ترس فرمایا اور اُن ہی میں سے ایک انسان( جن کا نام ھود تھا)کو نبوت عطا فرما کر قومِ عاد کی اِصلاح کا کام سونپا۔ حضرت ھود علیہ السلام نے لوگوں کو وہی پیغام دیا جو اُن سے پہلے تمام پیغمبر دیتے آئے تھے کہ ایک ﷲ کی عبادت کرو اور ﷲتعالیٰ نے جو مجھے احکامات دئیے ہیں اُن کی پیروی کرو۔ مگر قومِ عاد نے اپنی طاقت اور مال کے غرور میں انکار کیا اور حضرت ھود علیہ السلام سے کہا کہ تم کسی لحاظ سے ہم سے بہتر نہیں پھر ہم کیوں تمھاری بات مانیں۔ جب حضرت ھود علیہ السلام دلیل سے اُن کو سمجھانے کی کوشش کرتے تو لوگ سوچنے اور غور کرنے کی بجائے حضرت ھود علیہ السلام سے کہتے کہ ہمارے خداؤں نے تمہیں کسی بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور جب حضرت ھود علیہ السلام اُن کو ﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تو غرور اور تکبر میں مبتلا قوم جواب دیتی کہ جو عذاب لے کر آنا ہے لے آؤ۔

جب ہر طرح کی کوشش کے باوجود قوم نے حق بات کو ماننے سے انکار کر دیا تو ﷲتعالیٰ نے قومِ عاد پر قحط مسلط کر دیا مگر اِس کے باوجود جب لوگ پھر بھی حضرت ھود علیہ السلام کی دعوت پر انکار ہی کرتے رہے تو ﷲ تعالیٰ نے اُن پر ہوا کو اختیار دے دیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل آندھی اور طوفان سے قومِ عاد کے گھر بار ، فصلیں ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگ ہوا کے ساتھ اُڑ کر اِدھر اُدھر ٹکراتے رہے۔ جب ﷲ تعالیٰ کا عذاب ختم ہوا تو نافرمان قومِ عاد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس دنیا سے مٹ چکی تھی۔ لوگوں کے جسم میدانوں میں یوں بکھرے پڑے تھے جیسے کھجور کے کٹے ہوئے تنے ہوں اور کوئی اُن کو سنبھالنے والا باقی نہ بچا تھا۔قومِ عاد میں سے حضرت ھود علیہ السلام اور چند لوگ جو ایمان لائے تھے صرف وہی باقی بچے، اور ﷲ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کر کے دوسری جگہ چلے گئے۔ وﷲاعلم

اسباق:
قومِ عاد کو ﷲ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر اُنھوں نے اِس کو ﷲ تعالیٰ کی عطا سمجھنے کی بجائے یہ سمجھ لیا کہ یہ اُن کی اپنی محنت ہے۔ ہمیں بھی اِس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ زندگی میں جو بھی اچھی چیز ملے اُس کو ﷲ تعالیٰ کی نعمت سمجھیں اور اُس پر ﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اِس خیال کو ذہن میں نہ آنے دیں کہ یہ میری محنت اور کوشش سے ملا ہے۔بلکہ یہ سوچیں کہ یہ رب تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملا ہے۔

قومِ عاد کے پاس صحت ،دولت اور دنیاوی علم سب کچھ تھا مگر کمی تھی تو دین کے علم کی، اُن کے آباؤ اجداد نے دین کو بھلا دیا، جس وجہ سے شیطان نے اُن کو آسانی سے غلط راہ پر لگا دیا۔ ہمیں بھی ہر لمحہ یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں کیا سکھاتا ہے تا کہ ہم شیطان کے بہکاوے میں نہ آ سکیں۔

قومِ عاد کو جب حضرت ھود علیہ السلام نے دین کی طرف بلایا تو اُن لوگوں نے حضرت ھود علیہ السلام کی کسی بھی دلیل پر غور نہیں کیا اور ایک ہی بات پر اڑے رہے۔ ہمیں قرانِ پاک میں ﷲ تعالیٰ نے بار بار غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے لہذا ہمیں بھی یہ چاہیے کہ کسی بھی بات پر اَڑ جانے کی بجائے اور کوئی بھی جواب دینے سے پہلے اچھی طرح غور کریں کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں۔

قومِ عاد پر جب عذاب آیا تو سلامت صرف وہ لوگ رہے جنہوں نے اپنی غلطی کو سمجھا اور مانا اور فوراََ اپنے آپ کو درست کر لیا اور حضرت ھود علیہ السلام کے پیغام کو مانا اور مسلمان ہو گئے ۔
جب ﷲ تعالیٰ کا گناہ گاروں پر عذاب آتا ہے تو پھر بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں رہتی لہذا ہمیں بھی ڈرنا چاہیے اور غلطی ہونے پراِس سے پہلے کے پکڑ ہو فوراََ معافی مانگ کر توبہ کر لینی چاہیے ۔

حوالہ جات :
سورۃ ھود آیات ۵۴۔۵۰
سورۃ الاعراف آیت ۶۵
سورۃ الفجر آیات ۸۔۶
سورۃ الحآقۃ آیات ۸۔۶

سوالات:
سوال : قوم عاد کی طرف ﷲ تعالیٰ نے کِس نبی کو بھیجا؟

سوال : قومِ عاد جسمانی لحاظ سے کیسے تھے؟

سوال : قومِ عاد معاشی اعتبار سے کیسے تھے؟

سوال : وہ کون سی قوم تھی جِس جیسی قوم نہ پہلے کبھی آئی اور نہ اُن کے بعد کبھی آئے گی؟

سوال : قومِ عاد حضرت ھود علیہ السلام کی تبلیغ پر اُن کو کیا جواب دیتی تھی؟

سوال : جب حضرت ھود اپنی قوم کو ﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کیا جواب دیتے تھے؟

سوال : قومِ عاد پر پہلے کون سا عذاب نازل ہوا؟

سوال : قوم عاد پر کتنا عرصہ طوفانی عذاب رہا؟

سوال : عذابِ الہیٰ کے بعد قومِ عاد کی حالت کیسی ہو گئی تھی؟

سوال : قومِ عاد پر عذاب کے بعد زندہ سلامت کون بچا؟

سوال : جب ہمیں کوئی خوشی کی خبر یا کوئی اچھی چیز ملے تو کیا کرنا چاہیے؟

سوال : ہمیں شیطان کے جالوں سے بچنے کے لئے کیا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چائیے؟

سوال : اگر کوئی شخص دلیل سے بات کرے تو ہمیں جواب دینے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *